مساکین پرخرچ نہ کرنے کاسبب
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ’’اے ابن آدم!بے شک تو دو نعمتوں کے درمیان صبح کرتا ہے اورتونہیں جانتا کہ دونوں میں سے کون سی بڑی ہے ۔ لوگوں سے تیرے گناہوں کا پوشیدہ ہونا یا پھر لوگوں کا تیری تعریف وتوصیف کرنااوراگرلوگ تیرے اُن اعمال سے واقف ہوجائیں جنہیں میں جانتا ہوں تووہ تجھے سلام تک بھی نہ کریں ۔ اور اس سے بڑھ کرنعمت یہ ہے کہ تُو عافیت میں ہے، تُو لوگوں سے مستغنی ہے جبکہ وہ تیرے
محتاج ہیں اور تجھ سے لوگوں کی اذیت روک دی گئی ہے ۔ لہٰذامیرا شکر کر اور میری نعمتوں کی قدر پہچان، اپنے عمل کوریاسے پاک کرلے، خوف زدہ مسافرکے زادِ راہ کی مثل زادِ راہ لے لے اور اپنی نیکی کومیرے عرش کے نیچے رکھ دے ۔
اے ابن آدم!تمہارے سخت دل، تمہارے اعمال پراورتمہارے اعمال، تمہارے جسموں پراورتمہارے جسم، تمہاری زبانوں پراورتمہاری زبانیں ، تمہاری آنکھوں پر روتی ہیں ۔
اے ابن آدم!میرے خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے، تیرے خرچ کرنے کی مقدار کے برابرمیں تجھے عطافرماتاہوں اورجس قدرتُو(میری راہ میں )خرچ کرنے سے روکتاہے اتنی مقدار میں تجھ سے روک لیتاہوں ۔ اورمیرے عطاکردہ رزق میں سے تیرا مسکینوں پرخرچ نہ کرنا تیرے بُرے گمان، محتاجی کے خوف اورمجھ پر یقین نہ ہونے کا نتیجہ ہے ۔ کیونکہ میں نے تیری خلقت کورزق کے اہتمام کے ساتھ لازم کردیا ہے، لہٰذا اگر تو رزق کااہتمام کرتا ہے حالانکہ وہ میراہی عطاکردہ ہے تو(اسے میری راہ میں )خرچ کر اورمیرے دیئے ہوئے رزق میں سے میرے بندوں پرخرچ کرنے کے معاملے میں بخل نہ کر کیونکہ میں تجھے اس کاعوض عطا کرنے کاضامن ہوں اوراس کے عوض میں ، مَیں نے تجھے اجرو ثواب عطا کرنے کاوعدہ کیاہے توتُوکیوں میرے لکھے ہوئے میں شک کرتا ہے؟پس جس نے نہ تو میرے وعدے پریقین کیااور نہ ہی میرے انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام)کی تصدیق کی بے شک اس نے میری رَبُوبِیَّت کا اِنکارکیااور جس نے میری رَبُوبِیَّت کا اِنکار کیامیں اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالوں گا ۔ ‘‘


0 Comments