اگرتیرے گناہ ظاہرہوگئے تو
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے : ’’اے ابن آدم!میری عبادت کرکیونکہ جو میری عبادت کرتاہے میں اس سے محبت کرتا ہوں اوراپنے بندوں کوا س کا مطیع بنادیتا ہوں ۔ کیونکہ تو نہیں جانتا کہ گزشتہ زندگی میں تونے میری کتنی نافرمانی کی ا ور بقیہ زندگی میں کتنی نافرمانی
کرے گا، لہٰذامیرے ذکرسے غافل نہ ہوکیونکہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں ۔ میری عبادت کرکیونکہ توبندۂ عاجز اور میں رب جلیل ہوں ۔ اگر بنی آدم سے تیرے دوست اور اہل محبت تیرے گناہوں کی بوپالیں اور تیرے اُن کارناموں پر مطلع ہو جائیں جنہیں میں جانتا ہوں تو تیرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیں اور یہ ہو بھی سکتاہے کیونکہ تیرے گناہوں کی بوروزبروزبڑھتی جارہی ہے، جب کہ تیری پیدائش کے دن سے ہر روز تیری عمر گھٹتی جارہی ہے ۔
اے ابن آدم!جس شخص کی کشتی ٹوٹ جائے اور وہ لکڑی کے تختے پرسوارہو کر لوٹے اور اسے سمندر میں موجیں گھیرلیں ، تواس کی یہ مصیبت تیری اس(یعنی گناہوں کی) مصیبت سے بڑی نہیں ہے، لہٰذااپنے گناہوں کایقین کراور نیکیوں کے متعلق خطرہ میں رہ ۔
اے ابن آدم!میں تیری طرف عافیت کی نگاہ فرماتااورتیرے گناہوں کوچھپاتا ہوں حالانکہ میں تجھ سے مستغنی ہوں جب کہ تومیرا محتاج ہونے کے باوجود میری نافرمانیوں میں مبتلا ہے ۔
اے ابن آدم!توکب تک فانی دُنیاکوآباداورباقی رہنے والی آخرت کوبرباد کرنے کی کوشش میں لگا رہے گا؟
اے ابن آدم!میری مخلوق کو دھوکابھی دیتا ہے اوران کی ناراضی سے ڈرتا بھی ہے ۔
اے ابن آدم!اگرتمام آسمانوں اورزمین والے تیرے لئے مغفرت کی دُعا کریں توپھربھی تجھے اپنے گناہوں پرروناچاہئے کیونکہ تجھے نہیں معلوم کہ توکس حال میں مجھ سے ملے گا ۔
اے موسیٰ بن عمران(عَلَیْہِ السَّلَام)!میں جوکہہ رہا ہوں اسے توجہ سے سنواور میں حق ہی کہتاہوں : میرے بندوں میں سے کوئی بندہ بھی اس وقت تک(کامل) ایمان والا نہیں ہو سکتاجب تک لوگ اس کے شر، ظلم، دھوکے، چغلی، سرکشی اورحسد سے بے خوف نہ ہوجائیں ۔
اے موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام)!(لوگوں سے)کہہ دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جوچاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفرکرے ۔ ‘‘
(جیساکہ قرآنِ پاک میں ارشادباری تعالیٰ ہے : )
وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ- (پ۱۵، الکہف : ۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے توجوچاہے ایمان لائے اورجوچاہے کفرکر ے ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

0 Comments